Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اہم خبریں – Page 111 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: اہم خبریں

  • بشریٰ بی بی کی وکلا اور قانونی معاملات میں مداخلت، پی ٹی آئی کے سیاسی اور قانونی امور میں اہم تبدیلیاں

    بشریٰ بی بی کی وکلا اور قانونی معاملات میں مداخلت، پی ٹی آئی کے سیاسی اور قانونی امور میں اہم تبدیلیاں

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی چئیرپرسن عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے سیاسی امور کے بعد اب قانونی معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی نے وکلا اور انصاف لائرز فورم کی ٹیموں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں قاضی انور ایڈووکیٹ کے ذریعے ملک بھر کے وکلا کی فہرست منگوا لی ہے۔

    بشریٰ بی بی نے اس حوالے سے قاضی انور اور مشعال یوسفزئی کو وکلا کے معاملات پر رپورٹ دینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے وکلا کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک پیغام رسانی سے روک دیا ہے اور قاضی انور کو تمام کیسز پر حتمی مشاورت کا پابند بھی کر دیا ہے۔

    اس ہفتے کے دوران خیبرپختونخوا کے وکلا عہدیداروں کی تبدیلیوں پر بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کی گئی۔ بشریٰ بی بی نے وکلا کے تنازعات کو حل کیا اور ان معاملات کی آگاہی پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو دی۔ قاضی انور ایڈووکیٹ نے بشریٰ بی بی کو وکلا قیادت کی خرابیوں اور مسائل پر تفصیل سے بریف کیا۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے اس معاملے پر کسی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ بشریٰ بی بی کی اس مداخلت سے پی ٹی آئی کے اندر قانونی معاملات میں تبدیلیوں کا عندیہ ملتا ہے، جو پارٹی کے آئندہ کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  • لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ: وفاقی وزیر داخلہ نے سازش قرار دیا، امن معاہدہ خطرے میں

    لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ: وفاقی وزیر داخلہ نے سازش قرار دیا، امن معاہدہ خطرے میں

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لوئر کرم کے علاقے بگن میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ شرپسند عناصر نے فائرنگ کرکے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی حرکت کی، اور یہ واقعہ کرم میں جاری امن کے عمل کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود بگن جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی، جس میں وہ اور تین ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے۔ ندیم اسلم چوہدری نے فریقین سے اپیل کی کہ وہ پُرامن رہیں اور کوہاٹ معاہدے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرم میں امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ زخمی ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کرم جانے والے پہلے قافلے کو روک دیا گیا ہے اور صورتحال کا جائزہ لے کر قافلے کی روانگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند روز قبل ہی کرم تنازعہ پر فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا، اور اس کے تحت ٹل پارہ چنار شاہراہ کو تین ماہ بعد کھولا جانا تھا۔ فائرنگ کا یہ واقعہ امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا حصہ نظر آ رہا ہے، جسے حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

  • ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر کڑی تنقید

    ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر کڑی تنقید

    مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر کڑی تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ کرم کے مسئلے کو پیچیدہ کرنے کے ذمہ دار گنڈاپور ہیں، جنہوں نے اقتدار کے حصول کے لیے عوامی مسائل کو نظر انداز کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کرم کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل ہو سکتا تھا اگر مناسب اقدامات کیے جاتے۔ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان آئین پر نہ چلنے کی وجہ سے بحران کا شکار ہو چکا ہے اور عدلیہ کو انتظامیہ کے زیر اثر کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بحرانوں کا سبب نالائق حکمران ہیں جو ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔

  • رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کے مطالبات پر ردعمل: 26 نومبر پر کمیشن بنانے کی تجویز مسترد

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا اس بات پر کمیشن بنایا جائے کہ 26 نومبر کو ایک صوبائی حکومت نے جتھا لے کر وفاق پر حملہ کیا؟ انہوں نے یہ بات جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں بات کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبے پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے مخصوص ججز کو کمیشن کا حصہ بنانے کی تجویز دی تو یہ ایک متنازعہ معاملہ بن جائے گا۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں مطالبات میں بانی پی ٹی آئی سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی درخواست کی گئی تھی، جس پر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات تحریری طور پر اگلی ملاقات میں پیش کیے جائیں گے۔

    انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کو مبینہ 45 لاپتا یا 13 شہید کارکنوں کی فہرست نہیں دی، جو کہ پی ٹی آئی کے جانب سے ایک اہم مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ، رانا ثنااللہ نے 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونگی نمبر 26 پر ہونے والی فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانا ایک غیر ضروری اقدام ہوگا۔

  • حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیک چینل مذاکرات رک گئے، باضابطہ مذاکرات پر توجہ مرکوز

    حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیک چینل مذاکرات رک گئے، باضابطہ مذاکرات پر توجہ مرکوز

    اسلام آباد میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیک چینل مذاکرات رک گئے ہیں، جس کے بعد دونوں فریقوں کی توجہ باضابطہ مذاکرات پر مرکوز ہوگئی ہے۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق، دونوں فریقوں کی ملاقات گزشتہ ماہ کی 19 تاریخ کو ہوئی تھی، جس کے بعد سے کوئی بیک چینل میٹنگ نہیں ہوئی۔ اس ملاقات میں حکومت کی طرف سے دو اہم شخصیات نے شرکت کی، جبکہ تحریک انصاف کی نمائندگی پارٹی کے اہم رہنما نے کی۔

    یہ بیک چینل مذاکرات پہلے ایس سی او سربراہی اجلاس اور تحریک انصاف کے 24 نومبر کے اسلام آباد احتجاج کے موقع پر فعال تھے۔ ان رابطوں کی مدد سے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال کے ڈاکٹروں کو جیل میں ملاقات کی اجازت ملی تھی، اور تحریک انصاف نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، 26 نومبر کو ہونے والے واقعات نے ان رابطوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    تحریک انصاف نے حکومت پر الزامات عائد کیے کہ اس نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں، جبکہ حکومت نے تحریک انصاف کے احتجاج کو تشدد کو ہوا دینے کی سازش قرار دیا۔ اس کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان تیسری سطح پر بیک چینل مذاکرات ہوئے، جن میں تحریک انصاف کو یہ بتایا گیا کہ اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کشیدگی اور محاذ آرائی کی سیاست جاری رکھنا چاہتی ہے یا مفاہمت کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔

    اب دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ مذاکراتی عمل شروع ہوگیا ہے، تاہم بیک چینل مذاکرات میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس وقت حکومت اور تحریک انصاف کی توجہ باضابطہ مذاکراتی عمل پر مرکوز ہے، اور یہ طے کیا جا رہا ہے کہ آیا دونوں جماعتیں سیاسی مفاہمت کے راستے پر چلیں گی یا اپنی موجودہ سیاست جاری رکھیں گی۔

  • “مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم سے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کی درخواست”

    “مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم سے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کی درخواست”

    جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے صوبوں میں قانون سازی کے لیے ان سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

    ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اس درخواست پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے صوبوں میں قانون سازی کے حوالے سے وزرائے اعلیٰ سے رابطہ کریں گے۔

    یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب چند روز قبل صدر پاکستان آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے سوسائٹی ایکٹ رجسٹریشن بل پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس بل کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس نئے قانون کے مطابق مدارس کو سوسائٹیز رجسٹریشن یا وزارت تعلیم کے تحت خود کو رجسٹر کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔

    قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق، سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ بل 20 اکتوبر کو سینیٹ اور 21 اکتوبر کو قومی اسمبلی سے منظور ہوا تھا اور مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا گیا ہے۔

  • پشاور:  گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے مذاکرات پر تبصرہ

    پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے مذاکرات پر تبصرہ

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے نمائندوں پر کی جانے والی شیلنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ناظمین کا کنونشن گورنر ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا۔

    فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ مذاکرات مسائل کا حل ہیں مگر پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے مذاکرات میں کوئی ٹھوس نتیجہ نظر نہیں آ رہا، اور پی ٹی آئی کو این آر او ملنے کی توقع نہیں ہے۔

    گورنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بنوں، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک جیسے علاقوں میں جا کر حالات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گورنر راج کا نفاذ اتنا آسان نہیں ہے، اور اسے بغیر معقول وجوہات کے نہیں لگایا جا سکتا۔

  • نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے فنانشل بڈ کھولی گئی، ترک کمپنی کی پیشکش

    نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے فنانشل بڈ کھولی گئی، ترک کمپنی کی پیشکش

    نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے فنانشل بڈ کی تقریب کراچی میں پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی، جس میں صرف ایک ترک کمپنی نے حصہ لیا جو بڈ میں شارٹ لسٹ ہوئی تھی۔ پی اے اے کے ترجمان کے مطابق، ترک کمپنی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آمدنی کا 47.25 فیصد حصہ دینے کی پیشکش کی ہے۔

    پی اے اے ذرائع نے بتایا کہ ترک کمپنی کی پیشکش کا جائزہ لینے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزر، آئی ایف سی (انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن) کو بھیجا جائے گا، جو اپنی جائزہ رپورٹ 9 جنوری تک پی اے اے کو پیش کرے گا۔ تاہم، ترک کمپنی کی پیشکش کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے حاصل کی جائے گی۔

    یہ پیشکش اسلام آباد ائیرپورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اس کے مالی استحکام میں مدد دینے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس آؤٹ سورسنگ کی کامیابی کے بعد دیگر ائیرپورٹس کے لیے بھی ایسے ماڈلز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

  • لاہور کے علاقے کاہنہ میں بھائیوں کا بہن اور بہنوئی کے قتل کا واقعہ، اقبال ٹاؤن میں اسپتال کی لفٹ گرنے سے خواتین زخمی

    لاہور کے علاقے کاہنہ میں بھائیوں کا بہن اور بہنوئی کے قتل کا واقعہ، اقبال ٹاؤن میں اسپتال کی لفٹ گرنے سے خواتین زخمی

    لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بھائیوں نے اپنی بہن اور بہنوئی کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق رفعت بی بی نے دو سال قبل پسند کی شادی کی تھی، جس پر اس کے بھائی خوش نہیں تھے۔ بھائیوں کی جانب سے اس قتل کا ارتکاب اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ اپنی بہن کی پسند کی شادی سے ناخوش تھے۔ پولیس نے شواہد اکھٹے کر کے دونوں مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی ہیں۔

    اس کے علاوہ، لاہور کے اقبال ٹاؤن میں واقع ایک اسپتال میں لفٹ گرنے کا حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 8 خواتین زخمی ہو گئیں۔ حادثے میں زخمی ہونے والی خواتین کو فوری طور پر جناح، میو اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    یہ دونوں واقعات نہ صرف قانون کی حکمرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ معاشرتی مسائل اور عوامی حفاظت کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ پولیس نے اس قتل کے کیس میں مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور لفٹ کے حادثے کے حوالے سے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

  • راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ ملک میں میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، تمام جماعتیں مذاکرات کے لیے تیار ہیں

    راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ ملک میں میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، تمام جماعتیں مذاکرات کے لیے تیار ہیں

    سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما، راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں مذاکراتی کمیٹی کا ماحول بہتر ہو چکا ہے اور وقت آنے پر آصف علی زرداری، نواز شریف اور عمران خان بھی ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ابھی تک اپنے مطالبات باضابطہ طور پر نہیں پیش کیے ہیں، تاہم انہوں نے کارکنان کی رہائی اور جوڈیشل کمیشن کے قیام جیسے مطالبات اٹھائے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔

    راجہ پرویز اشرف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو اس وقت ایک نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے تاکہ غیریقینی کی صورتحال اور معاشی بدحالی سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر اس صورتحال کا حل نکالنا چاہیے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

    ان کے مطابق، مذاکرات کا ماحول اس وقت پہلے سے بہتر ہے اور وقت کے ساتھ سیاسی جماعتیں، جن میں آصف علی زرداری، نواز شریف اور عمران خان شامل ہیں، بھی آپس میں بیٹھ کر ملکی مسائل پر بات چیت کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں جمہوریت اور معاشی استحکام کے لیے ایک مضبوط اتفاق رائے کی ضرورت ہے، جو کہ میثاق جمہوریت کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔