Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اہم خبریں – Page 113 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: اہم خبریں

  • ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب آئی ایم ایف کے طے شدہ ہدف سے تجاوز کر گیا

    ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب آئی ایم ایف کے طے شدہ ہدف سے تجاوز کر گیا

    پاکستان کے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2024-25 کے دوران اپنے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 10.6 فیصد کے طے شدہ ہدف سے تجاوز کر کے 10.8 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ اس کامیابی کے باوجود ایف بی آر نے پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں 5624 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا، جو کہ 6009 ارب روپے کے ہدف سے 385 ارب روپے کم ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیا گیا تھا۔

    اس اضافے کے باوجود، ایف بی آر نے اپنے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کے ہدف کو 0.2 فیصد جی ڈی پی کے معمولی فرق سے عبور کیا، جو ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے سالانہ بنیاد پر ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.6 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم پہلی ششماہی میں یہ تناسب 31 دسمبر 2024 تک 10.8 فیصد تک بڑھ گیا۔

    دی نیوز کو بدھ کے روز شیئر کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر کی مدت میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 9.5 فیصد رہا، جو طے شدہ ہدف سے کم تھا۔ اس کے بعد، ایف بی آر نے دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.57 فیصد کے قریب رہنے کی توقع ظاہر کی ہے، جو ٹیکس وصولی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایف بی آر کی یہ کارکردگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے، حالانکہ مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ہو گا

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ہو گا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت یہ بند کمرہ اجلاس سہ پہر ساڑھے 3 بجے شروع ہو گا۔ اس ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی شریک ہوں گے، اور تحریک انصاف اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ (چارٹر آف ڈیمانڈ) پیش کرے گی۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اپنے مطالبات میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی، دیگر قیدیوں کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام شامل کرے گی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات پر زور دیا جائے گا کہ ان واقعات کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ قوم کو حقیقت کا پتہ چل سکے اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔

    دوسری جانب، حکومت بھی پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا لائحہ عمل تیار کرے گی۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اس اہم مذاکراتی عمل کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان پائی جانے والی اختلافات کو کم کرنا اور سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔

    یہ مذاکرات پاکستانی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اس کے نتائج ملک کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • سندھ کو وفاقی اداروں سے پانی کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ

    سندھ کو وفاقی اداروں سے پانی کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ

    سندھ حکومت نے وفاقی اداروں سے پانی کے چارجز کی مد میں 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا اور اس بات کی ہدایت کی کہ سندھ کے واجبات وصول کرنے کے لیے وفاقی اداروں کو خطوط لکھے جائیں۔ سندھ اسمبلی کے اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ وفاقی ادارے سندھ کو پانی فراہم کرنے کے باوجود، ان کے واجبات ادا نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے صوبے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

    پی اے سی نے سندھ کے مختلف وفاقی اداروں پر 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلدیات اور واٹر بورڈ کے سی ای او کو ہدایت دی کہ وہ وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کو خط لکھیں اور ان سے واجبات وصول کرنے کی کوشش کریں۔ پی اے سی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ 21 جنوری کو اجلاس بلایا جائے گا جس میں وفاقی اداروں کے متعلقہ حکام کو طلب کیا جائے گا تاکہ وہ سندھ کے پانی کے واجبات کے حوالے سے جوابدہ ہوں۔ اس اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز، سوئی سدرن گیس، پی ایس او، کے پی ٹی، پاکستان ریلوے، پی آئی اے، نیشنل شپنگ کارپوریشن، پورٹ قاسم اتھارٹی، میرین فشریز، کنٹونمنٹ بورڈز، کراچی شپ یارڈ، پاکستان مشین ٹول فیکٹری اور کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن جیسے ادارے شامل ہیں۔

    نثار کھوڑو، جو کہ سندھ اسمبلی کے رکن ہیں، نے اس بات کا انکشاف کیا کہ سندھ کے 20 ارب روپے کے واجبات میں سے 10 ارب روپے صرف پاکستان اسٹیل ملز پر واجب الادا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ نے ان وفاقی اداروں کو پانی کی سہولت فراہم کی ہے، لیکن ان اداروں نے سندھ کو اپنے واجبات کی ادائیگی نہیں کی۔ اس صورتحال کو غیر منصفانہ اور سندھ کے ساتھ زیادتی قرار دیتے ہوئے نثار کھوڑو نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور سندھ کو اس کا حق دلوائے۔

    نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی ادارے سندھ کے واجبات ادا نہیں کرتے تو اس سے نہ صرف سندھ کی مالی حالت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اس سے وفاقی اداروں کی بددیانتی اور عدم ذمہ داری کا بھی اظہار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ مسئلہ فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ سندھ کی مالی حالت بہتر ہو سکے اور عوام کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

    یہ مسئلہ سندھ اور وفاق کے درمیان جاری مالی تعلقات اور صوبے کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم سوال بھی ہے، جس کا حل وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔

  • پاکستان میں رجب المرجب کا چاند نظر آ گیا، یکم رجب 2 جنوری کو ہوگی

    پاکستان میں رجب المرجب کا چاند نظر آ گیا، یکم رجب 2 جنوری کو ہوگی

    پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رجب المرجب کا چاند نظر آنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت وزارت مذہبی امور میں منعقد ہوا، جبکہ زونل اور ضلعی ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے متعلقہ مقامات پر ہوئے۔ ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم رجب 2 جنوری 2025 کو ہوگی۔ اس موقع پر شب معراج 28 جنوری کو منائی جائے گی۔ اجلاس کے آخر میں غزہ اور فلسطین سمیت لبنان کے مظلوم مسلمانوں کی آزادی، عالم اسلام کے اتحاد، حرمین شریفین کے تحفظ، اور پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

  • کرم امن معاہدہ: کوہاٹ گرینڈ جرگے میں فریقین کے درمیان معاہدے پر دستخط

    کرم امن معاہدہ: کوہاٹ گرینڈ جرگے میں فریقین کے درمیان معاہدے پر دستخط

    کوہاٹ میں ضلع کرم کی صورتحال پر جاری گرینڈ جرگہ اختتام پذیر ہوگیا، جس میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت کئی اہم اقدامات کی منظوری دی گئی، جن میں نقصانات کا ازالہ، بڑی اسلحہ حکومتی تحویل میں دینا، اور فریقین کی جانب سے بنائے گئے مورچوں کا خاتمہ شامل ہے۔

    **امن معاہدے کی اہم شرائط:**
    1. فریقین کے درمیان 14 نکات پر مبنی سیز فائر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
    2. فریقین ایک دوسرے کے مورچے ختم کریں گے اور اسلحہ حکومت کے حوالے کریں گے۔
    3. معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔
    4. سڑکوں کی حفاظت کے لیے حکومتی فیصلوں پر عمل کیا جائے گا اور راستے کھولنے کے لیے حکومت فیصلہ کرے گی۔
    5. کالعدم تنظیموں کی کارروائیوں اور دفاتر کے کھولنے پر پابندی ہوگی۔
    6. تخریب کاری میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کی جائے گی، اور اس میں مسلک یا قبیلے کی تفریق نہیں کی جائے گی۔
    7. نئے بنکرز کی تعمیر پر پابندی ہوگی، اور پہلے سے موجود بنکرز ایک ماہ کے اندر ختم کیے جائیں گے۔
    8. امن جرگہ فریقین کے درمیان مسائل کا حل کرے گا۔

    **جرگہ اراکین کی اپیل:**
    ملک ثواب خان اور ملک لائق اورکزئی نے اپیل کی کہ امن معاہدے کے بعد دھرنے ختم کر دیے جائیں اور علاقے میں مکمل امن قائم ہو۔

    **معاہدے کے فوائد:**
    یہ معاہدہ ضلع کرم میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس سے نہ صرف مقامی افراد کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ علاقے میں ترقی اور استحکام کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا اہم خطاب: ترقی کے لیے برآمدات پر زور، آئی ایم ایف ٹارگٹس میں فرق

    وزیراعظم شہباز شریف کا اہم خطاب: ترقی کے لیے برآمدات پر زور، آئی ایم ایف ٹارگٹس میں فرق

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کی بنیادی ضرورت برآمدات میں اضافے کی ہے، اور اس کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ فکس کیے گئے ٹارگٹس میں خاصا فرق ہے، لیکن دسمبر کے مہینے میں اہداف حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے “اڑان پاکستان” جیسے پروگرامز اہم ثابت ہوں گے، جو معیشت کو مزید مستحکم کریں گے۔ انہوں نے گروتھ سیکٹر میں ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے برآمدات کے حجم میں اضافہ کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے کراچی پورٹ پر فیس لیس انٹر ایکشن کے آغاز اور کاروباری حضرات کو ریلیف دینے کے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے تیل کی اسمگلنگ میں کمی آئی ہے، جس کا کریڈٹ آرمی چیف کو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 مہینوں میں ترسیلات زر 15 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، اور اگر یہی کارکردگی جاری رہی تو یہ رقم 35 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو ایک ریکارڈ ہو گا۔

    شہباز شریف نے پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کے باعث ہمارا مستقبل محفوظ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے انسانی اسمگلنگ کرنے والوں کو قابو میں کر لیا ہے اور اس کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی اور ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے اور موجودہ کامیابیوں سے حوصلہ ملنا چاہیے۔

  • روس کی جانب سے یوکرین کے راستے یورپ کو گیس کی سپلائی معطل، یوکرین کا ٹرانزٹ معاہدے کی تجدید سے انکار

    روس کی جانب سے یوکرین کے راستے یورپ کو گیس کی سپلائی معطل، یوکرین کا ٹرانزٹ معاہدے کی تجدید سے انکار

    روس نے یوکرین کے راستے یورپ کو قدرتی گیس کی سپلائی معطل کر دی ہے، جس کی وجہ یوکرین کا 5 سالہ ٹرانزٹ معاہدے کی تجدید سے انکار ہے۔ اس معاہدے کی مدت یکم جنوری 2025 کو ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد یوکرین نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ اس معاہدے کو دوبارہ نہیں کرے گا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی تنازعہ کے باعث اس فیصلے کو مناسب سمجھا گیا۔

    یوکرین کے وزیر توانائی، جرمن گالوشچینکو نے اس بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روس کی گیس کی ترسیل روک دی گئی ہے، اور یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کیونکہ روس اپنی گیس کی منڈیاں کھو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے نتیجے میں روس کو مالی نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ یورپ پہلے ہی روسی گیس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

    روس کی توانائی کمپنی Gazprom نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یوکرین کے ساتھ معاہدے کی تجدید نہ ہونے کی وجہ سے وہ یورپ کو گیس فراہم کرنے سے قاصر ہو چکا ہے۔ روس کی گیس کے ذریعے مختلف یورپی ممالک جیسے سلواکیا، ہنگری اور مالدووا کو قدرتی گیس فراہم کی جاتی تھی۔

    سلواکیا کے وزیرِاعظم رابرٹ فیکو نے کہا کہ اگر گیس کی سپلائی روک دی جاتی ہے تو ان کی حکومت یوکرین کے خلاف جوابی اقدامات کرے گی، جیسے کہ بجلی کی سپلائی روکنا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ممالک اس فیصلے سے متاثر ہوں گے، لیکن روس پر اس کا کم اثر پڑے گا۔

    مالدووا میں صورتحال زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہ ملک یوکرین سے متصل ہے اور گیس کی سپلائی معطل ہونے سے پہلے ہی اس نے 60 دنوں کی ایمرجنسی حالت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، روس ابھی بھی بحیرہ اسود کے راستے گیس کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر ہنگری کو جو زیادہ تر گیس بحیرہ اسود کی پائپ لائن کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔

    اس معاہدے کے خاتمے کے بعد، یورپ کو روسی گیس کی فراہمی میں مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپ نے روس کی گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یوکرین کے فیصلے نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ عالمی توانائی کی سیاست میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور روس کی گیس کی مارکیٹ میں کمی کا سامنا ہو رہا ہے۔

  • **واٹس ایپ کی جانب سے پرانے اینڈرائیڈ فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان**

    **واٹس ایپ کی جانب سے پرانے اینڈرائیڈ فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان**

    اگر آپ 10 سال پرانا اینڈرائیڈ فون استعمال کر رہے ہیں تو یہ آپ کے لیے اہم خبر ہو سکتی ہے! میٹا نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2025 سے اینڈرائیڈ کٹ کیٹ (اینڈرائیڈ 4.4) اور اس سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے فونز پر واٹس ایپ کی سپورٹ ختم کر دی جائے گی۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام فونز جو اس تاریخ سے قبل اینڈرائیڈ کٹ کیٹ یا اس سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹمز پر چل رہے ہوں گے، وہ واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکیں گے۔ میٹا نے اپنے صارفین کو جدید فیچرز فراہم کرنے کے لیے ایپ کے یوزر انٹرفیس اور پرائیویسی سیٹنگز کو مسلسل اپڈیٹ کیا ہے، جس کے لیے تازہ ترین آپریٹنگ سسٹمز کی ضرورت ہے۔

    یہ فیصلہ میٹا کی جانب سے زیادہ جدید فیچرز، بشمول آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی فیچرز کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جو پرانے ہارڈ ویئر کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتے۔

    یکم جنوری 2025 سے جن فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا، ان میں شامل ہیں:
    – **سام سنگ**: گلیکسی ایس 3، ایس نوٹ 2، گلیکسی ایس 3، گلیکسی ایس 4 منی
    – **موٹرولا**: موٹو جی (فرسٹ جنریشن)، ریزر ایچ ڈی، موٹو ای 2014
    – **ایچ ٹی سی**: ون ایکس، ون ایکس پلس، ڈیزائر 500، ڈیزائر 601
    – **ایل جی**: آپٹیمس جی، نیکسز 4، جی 2 منی، ایل 90
    – **سونی**: ایکسپیریا زی، ایکسپیریا ایس پی، ایکسپیریا ٹی، ایکسپیریا وی

    اگر آپ ان فونز میں سے کوئی استعمال کر رہے ہیں، تو آپ کو اپنے واٹس ایپ ڈیٹا کو ایک نئی ڈیوائس پر منتقل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، یکم جنوری کے بعد آپ کا تمام میڈیا اور چیٹ ہسٹری ڈیلیٹ ہو جائے گا۔

    یہ فیصلہ اس لیے بھی کیا گیا کیونکہ واٹس ایپ کے نئے فیچرز اور سیکیورٹی اپڈیٹس پرانے آپریٹنگ سسٹمز پر کام نہیں کر سکتے، اس لیے ان فونز کے لیے سپورٹ ختم کر دی جائے گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے “اڑان پاکستان” پروگرام کا افتتاح کر دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے “اڑان پاکستان” پروگرام کا افتتاح کر دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے اڑان پاکستان پروگرام کا افتتاح کردیا، جس کی تقریب میں اڑان پاکستان کے لوگو اور کتاب کی بھی رونمائی کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، گورنر خیبر پختونخوا اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب شامل تھے۔

    افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران حکومت نے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کیا، تاہم ہم میکرو اقتصادی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاشی کامیابی ایک طویل اور مشکل جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے دوران پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

    وزیراعظم نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ نواز شریف اور اتحادیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ قومی مفاد کو اپنی سیاست سے پہلے رکھیں گے اور ریاست کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے تھے، اور اس بات کو ریکارڈ کیا کہ خطوط میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہ کیا جائے، لیکن اللہ کی مرضی تھی کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ہوئی۔

    وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی معاشی مشکلات پر قابو پائے گا اور آئندہ کے لیے مضبوط اقدامات اٹھائے گا تاکہ ملک کا مستقبل روشن ہو۔

  • کراچی: نمائش چورنگی پر صورتحال کشیدہ، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

    کراچی: نمائش چورنگی پر صورتحال کشیدہ، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

    کراچی کے نمائش چورنگی پر صورتحال کشیدہ ہوگئی جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔

    مظاہرین نے ایک گاڑی کو آگ لگادی، جبکہ پولیس اہلکاروں کی 6 موٹرسائیکلیں اور ایک پولیس چوکی بھی نذرآتش کردی گئی۔ مظاہرین نے پولیس موبائل کے شیشے بھی توڑے، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

    پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور نمائش چورنگی پر موجود مظاہرین کے کیمپ کو اکھاڑ دیا۔ صورتحال کی شدت کے پیش نظر پولیس نے علاقے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔