Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
ٹیکنالوجی – Page 5 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: ٹیکنالوجی

  • وزارت توانائی کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی پیش گوئی

    وزارت توانائی کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی پیش گوئی

    اسلام آباد: وزارت توانائی نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی قیمتوں میں چند ماہ میں کمی متوقع ہے۔ یہ اعلان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزارت توانائی کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس کی صدارت ایم این اے سید طارق حسین نے کی، جس میں وزارت نے پاکستان اینیمل سائنس کونسل بل، 2024 کو مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ اس بل کا مقصد جانوروں کی سائنس میں تحقیق اور ترقی کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنا تھا، تاہم چیئرمین کمیٹی نے وزارت اور وزارت قانون کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ اس بل کا جائزہ لیں اور آئندہ اجلاس میں اتفاق رائے حاصل کریں۔

    ادھر، وزارت توانائی کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوششیں جاری ہیں اور چند ماہ میں عوام کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے اس سے قبل کہا تھا کہ پاکستان کو خطے میں سب سے سستی بجلی فراہم کرنے والا ملک بنائیں گے اور آئی پی پیز سے بات چیت کر کے پہلے ہی بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ وہ مزید آئی پی پیز سے مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوام کو بجلی کی قیمتوں میں مزید ریلیف مل سکے۔

    یہ اعلان پاکستانی عوام کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی قیمتوں میں کمی عوامی بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

  • ایپل آئی فون 16 سیریز کا سستا ترین فون متعارف کرانے کی تیاری میں

    ایپل آئی فون 16 سیریز کا سستا ترین فون متعارف کرانے کی تیاری میں

    ایپل کی جانب سے آئی فون 16 سیریز کا سستا ترین ماڈل آئندہ مہینوں میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جسے “آئی فون 16 ای” کے نام سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈل ایپل کی اس نئی حکمت عملی کا حصہ ہوگا جس کے تحت سستی قیمت پر اعلیٰ کارکردگی فراہم کی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق، آئی فون 16 ای کا ڈیزائن آئی فون 14 سے ملتا جلتا ہوگا، تاہم، اس میں ہوم بٹن کو ہٹا کر اسکرین پر فرنٹ کیمرا نوچ ڈیزائن میں دیا جائے گا۔ اس ماڈل میں ایپل کا نیا اے 18 پراسیسر شامل ہوگا، جو اس کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) فیچرز کی بھی سہولت فراہم کرے گا۔

    یہ آئی فون 16 سیریز کا حصہ بننے کے باوجود ماضی کے ایس ای ماڈلز سے مختلف ہوگا، اور اس کی قیمت دیگر ماڈلز کے مقابلے میں کم ہوگی، جس سے یہ ایپل کا سستا ترین اے آئی فون بن جائے گا۔

    اس ماڈل میں 6.06 انچ کا او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا جائے گا، اور فون کے بیک پر 48 میگا پکسل کا کیمرا جبکہ فرنٹ پر 12 میگا پکسل کا کیمرا ہوگا۔ اس کی بیٹری بھی پہلے سے بڑی ہوگی اور یہ وائی فائی 6، بلوٹوتھ 5.3 اور 5 جی سپورٹ کے ساتھ آئے گا۔ چارجنگ کے لیے یو ایس بی سی پورٹ فراہم کی جائے گی۔

    آئی فون 16 ای کو مارچ 2025 میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے اور یہ بلیک اور وائٹ رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

  • **واٹس ایپ کی جانب سے پرانے اینڈرائیڈ فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان**

    **واٹس ایپ کی جانب سے پرانے اینڈرائیڈ فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان**

    اگر آپ 10 سال پرانا اینڈرائیڈ فون استعمال کر رہے ہیں تو یہ آپ کے لیے اہم خبر ہو سکتی ہے! میٹا نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2025 سے اینڈرائیڈ کٹ کیٹ (اینڈرائیڈ 4.4) اور اس سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے فونز پر واٹس ایپ کی سپورٹ ختم کر دی جائے گی۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام فونز جو اس تاریخ سے قبل اینڈرائیڈ کٹ کیٹ یا اس سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹمز پر چل رہے ہوں گے، وہ واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکیں گے۔ میٹا نے اپنے صارفین کو جدید فیچرز فراہم کرنے کے لیے ایپ کے یوزر انٹرفیس اور پرائیویسی سیٹنگز کو مسلسل اپڈیٹ کیا ہے، جس کے لیے تازہ ترین آپریٹنگ سسٹمز کی ضرورت ہے۔

    یہ فیصلہ میٹا کی جانب سے زیادہ جدید فیچرز، بشمول آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی فیچرز کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جو پرانے ہارڈ ویئر کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتے۔

    یکم جنوری 2025 سے جن فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا، ان میں شامل ہیں:
    – **سام سنگ**: گلیکسی ایس 3، ایس نوٹ 2، گلیکسی ایس 3، گلیکسی ایس 4 منی
    – **موٹرولا**: موٹو جی (فرسٹ جنریشن)، ریزر ایچ ڈی، موٹو ای 2014
    – **ایچ ٹی سی**: ون ایکس، ون ایکس پلس، ڈیزائر 500، ڈیزائر 601
    – **ایل جی**: آپٹیمس جی، نیکسز 4، جی 2 منی، ایل 90
    – **سونی**: ایکسپیریا زی، ایکسپیریا ایس پی، ایکسپیریا ٹی، ایکسپیریا وی

    اگر آپ ان فونز میں سے کوئی استعمال کر رہے ہیں، تو آپ کو اپنے واٹس ایپ ڈیٹا کو ایک نئی ڈیوائس پر منتقل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، یکم جنوری کے بعد آپ کا تمام میڈیا اور چیٹ ہسٹری ڈیلیٹ ہو جائے گا۔

    یہ فیصلہ اس لیے بھی کیا گیا کیونکہ واٹس ایپ کے نئے فیچرز اور سیکیورٹی اپڈیٹس پرانے آپریٹنگ سسٹمز پر کام نہیں کر سکتے، اس لیے ان فونز کے لیے سپورٹ ختم کر دی جائے گی۔

  • ناسا کا پارکر سولر پروب سورج کے انتہائی قریب پرواز کر کے تاریخ رقم کر رہا ہے

    ناسا کا پارکر سولر پروب سورج کے انتہائی قریب پرواز کر کے تاریخ رقم کر رہا ہے

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے پارکر سولر پروب خلائی جہاز نے سورج کے انتہائی قریب پرواز کر کے ایک نیا سنگ میل طے کیا ہے۔ سائنسدانوں کو اس جہاز سے گزشتہ رات سگنل موصول ہوئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورج سے خارج ہونے والے شدید درجہ حرارت اور تابکاری کو برداشت کرتے ہوئے اپنی سفر کی کامیابی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ خلائی جہاز 38 لاکھ میل کے فاصلے پر سورج کی بیرونی فضا میں پرواز کر رہا تھا، جس دوران اس کا زمین سے رابطہ عارضی طور پر منقطع ہوگیا تھا۔ ناسا نے اعلان کیا ہے کہ پارکر سولر پروب محفوظ طریقے سے کام کر رہا ہے اور اس کا سفر معمول کے مطابق جاری ہے، جو خلائی تحقیق میں اہم پیشرفت ہے۔

  • پاکستان کی گیس کی کمی سے ملکی معیشت کو 4 ماہ میں 194 ملین ڈالر کا نقصان

    پاکستان کی گیس کی کمی سے ملکی معیشت کو 4 ماہ میں 194 ملین ڈالر کا نقصان

    اسلام آباد: پاکستان میں گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث ملکی معیشت کو گزشتہ 4 ماہ میں 194 ملین ڈالرز (تقریباً 53 ارب 37 کروڑ 40 لاکھ روپے) کا نقصان ہوا ہے۔ مقامی گیس کی پیداوار میں 374 ایم ایم سی ڈی ایف (ملین مکعب فٹ یومیہ) کی کمی دیکھنے کو آئی ہے، جس کی وجہ سے اقتصادیات کو ماہانہ 13 ارب 34 کروڑ 40 لاکھ روپے (48 ملین ڈالرز) کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    گیس کی کمی اور ایل این جی کی لاگت میں اضافہ
    مقامی گیس کی کمی کا موازنہ اگر 329 ایم سی سی ایف ڈی کی آر ایل این جی (ریگسفائیڈ لیس نیچرل گیس) کی لاگت سے کیا جائے تو تقریباً 50 کروڑ ڈالرز (139 ارب روپے) کا نقصان دکھائی دیتا ہے۔ اس بات کا اثر نہ صرف گیس کی فراہمی پر پڑا بلکہ خام تیل کی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    خام تیل اور قومی خزانے کو نقصان
    پاکستان کے حکام کے مطابق، گیس کی کمی سے 5 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، جب کہ قومی خزانے کو تقریباً 20 ارب روپے کا نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس صورتحال کا ذمہ دار ایل این جی کی درآمد میں اضافہ اور مقامی گیس کے کنوؤں کی بندش کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔

    حکومت کی حکمت عملی اور ایل این جی کارگو کی خریداری میں کمی
    حکومتی سطح پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ حکام نے ایل این جی کی درآمد کو جواز دینے کے لیے مقامی گیس کے کنویں بند کیے تھے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں اسپاٹ ایل این جی کارگو نہ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا، جو کہ ایک دانشمندانہ اقدام ثابت ہوا۔

  • **کراچی میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی تنصیب کا کام جاری، 2025 تک پاکستان میں فعال ہونے کی توقع**

    **کراچی میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی تنصیب کا کام جاری، 2025 تک پاکستان میں فعال ہونے کی توقع**

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار اور دستیابی میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر کراچی میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی تنصیب کا کام جاری ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق، یہ جدید کیبل 2025 کی چوتھی سہ ماہی تک پاکستان میں فعال ہو جائے گی، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور بینڈوتھ میں قابلِ ذکر اضافہ متوقع ہے۔

    **پہلا مرحلہ: کراچی ہاکس بے پر کیبل کا اتارنا**
    پی ٹی اے نے بتایا کہ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جس میں زیرِ سمندر کیبل کو کراچی کے ہاکس بے ساحل پر اتارا گیا ہے۔ اس کے بعد، دوسرے مرحلے میں کیبل کو گہرے سمندر میں بچھانے کا عمل اپریل 2025 سے شروع ہوگا۔ اس کیبل کی مدد سے پاکستان کو افریقا سے 24 ٹیرا بائٹس کی بینڈوتھ دستیاب ہوگی، جس سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافے کی توقع ہے۔

    **پاکستان کی انٹرنیٹ بینڈوتھ کی موجودہ صورتحال**
    اس وقت پاکستان کو 7 زیرِ سمندر کیبلز سے تقریباً 8 ٹیرا بائٹس کی بینڈوتھ حاصل ہے، جو ملک کی انٹرنیٹ کی ضروریات کو محدود پیمانے پر پورا کر رہی ہے۔ تاہم، نئی کیبل کے ذریعے مزید بینڈوتھ کی دستیابی سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار اور صلاحیت میں ایک نمایاں اضافہ ہو گا، جو خاص طور پر 5G کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

    **5G کی ضروریات کا مکمل حل**
    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے صدر سجاد مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ یہ نئی کیبل پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیبل کے ذریعے انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں اضافہ ہو گا، جس سے سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان کی انٹرنیٹ اسپیڈ کی موجودہ صورتحال پر وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں کمی ہے، اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    **پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید**
    انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں کمی کے حوالے سے حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے حکومت پر تنقید کی تھی۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل نیشن بل پیش کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انٹرنیٹ اسپیڈ میں یہ بل پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے حکومت کو اس بات کا الزام عائد کیا کہ انٹرنیٹ کی سست رفتار کو بہتر کرنے میں ناکامی کے باوجود اہم بلز پیش کیے جا رہے ہیں۔

    **مستقبل میں انٹرنیٹ کی بہتری کی امید**
    مجموعی طور پر یہ نئی انٹرنیٹ کیبل پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار اور صلاحیت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہو گا، اور یہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت اور انٹرنیٹ پر مبنی صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    **نتیجہ**
    کراچی میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی تنصیب کا عمل پاکستان کے انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے، جو نہ صرف عوام کے لیے بہتر انٹرنیٹ خدمات فراہم کرے گا بلکہ ملک کی ڈیجیٹل ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ اس منصوبے کی تکمیل میں کچھ وقت لگے گا، لیکن اس کی کامیاب تکمیل سے پاکستان کی انٹرنیٹ سروسز میں انقلاب آ سکتا ہے۔

  • مارچ 2025 تک بجلی 12 روپے سستی کرنے کی تیاری

    مارچ 2025 تک بجلی 12 روپے سستی کرنے کی تیاری

    اسلام آباد- حکومت نجی آئی پی پیز ، سرکاری بجلی گھروں اور شمسی و پن بجلی کے منصوبوں کے ساتھ مارچ 2025 تک مذاکرات مکمل کرکے بجلی کے ٹیرف کو 12 روپے تک کم کرنے کی تیاری کر رہی ہےمزید برآں سی پیک اور سرکاری پاورپلانٹس کے قرضوں کی ری پروفائل اور بجلی کے بلوں پر محصولات کو کم کرنے کے طریقہ کار کو آئندہ فروری تک مکمل کرلیاجائےگا اور آمدن میں ہونے والی کمی کا انتظام معیشت کے دیگر سیکٹرز سے پورا کیا جائے گا سینئر سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ پہلے مرحلے میں حکومت 5 آئی پی پیز حبکوپاور، روش پاور، اے ای ایس لال پیر پاور، صباپاور پلانٹ اور اٹلس پاورکے ساتھ منصوبوں کو ختم کیاگیا اور اب اسے 365 میگاواٹ کے پاک جین پاورلمیٹڈ آئی پی پی کے ساتھ معاہدہ ختم کیاجا رہا ہے، اس طرح حکومت اب تک 6 کنٹریکٹ ختم کرنے والی ہے اس عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہم پاورٹیرف کو 3 روپے فی یونٹ تک کم کرنے کے قابل ہوگئے ہیں اور قرض کی ری پروفائلنگ کے ذریعے ٹیرف کو مزید 4 روپےفی یونٹ کم کرنے میں مدد ملے گی اور حکومتی کارپرداز بجلی کے بلوں پر ٹیکس کم کرکے اس کے اثر کو 5 روپے فی یونٹ تک کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح آف پیک ٹیرف 41.68 روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 29.68 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائےگا اور پیک آور ٹیرف 36 روپے فی یونٹ تک کم ہو جائےگا

  • ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا

    ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا

    اسلام آباد- ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا قومی اسمبلی اجلاس میں وزیرمملکت برائے آئی ٹی شزافاطمہ خواجہ نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل2024 متعارف کروادیا بل مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا گیا ہے مسودہ بل کے مطابق اس بل کا مقصد ایک متحرک ڈیجیٹل معاشرہ، ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت اور مؤثر ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دے کر پاکستان کو ایک بااختیار ملک میں تبدیل کرنا ہے مسودہ کے مطابق جدت، اقتصادی ترقی اور سماجی بہبودکو آگے بڑھانےکے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئےگورننس کو بہتر بنانا ہے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ اس بل کے ذریعے نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کرنا ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے تمام سطحوں کی حکومتوں کی نگرانی کرتے ہوئے ڈیجیٹل اقدامات کو مربوط اور ہم آہنگ کرتے ہوئے ان پالیسیوں کو نافذ کیا جائے حکومت کا کہنا ہے کہ بل محفوظ اور ذمہ دارانہ انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ڈیٹا کی مؤثر حکمرانی پر زور دیتا ہے اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کی ترقی کو ترجیح دیتا ہے اور ڈیٹا ایکس لیئر کو فروغ دیتا ہے وزیر مملکت شزا فاطمہ نے کہ یونیفائیڈ ڈیجیٹل آئیڈنٹیٹی سے دستاویزات کی تصدیق کا وقت بچےگا، شہریوں کا ایف بی آر، ایکسائز، اسٹیٹ بینک اور میڈیکل ہسٹری کا ڈیٹا اسی آئی ڈی میں محفوظ ہوگا

  • پاکستان میں ونڈوز آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کی سکیورٹی کو خطرات لاحق، آفیشل ایڈوائزری جاری

    پاکستان میں ونڈوز آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کی سکیورٹی کو خطرات لاحق، آفیشل ایڈوائزری جاری

    پاکستان میں مائیکرو سافٹ کے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کرنے والے صارفین کی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہیں نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ مائیکروسافٹ صارفین کے اکاؤنٹس اور لاگ ان پاس ورڈز کو خطرات لاحق ہیں ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا کہ مائیکرو سافٹ کے ونڈوز سسٹم میں موجود کمزوری کے باعث ہیکرز حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جبکہ انہیں چرانے کے لیے سائبر حملے بھی کیے جاسکتے ہیں بیان میں کہا گیا کہ لاگ ان پاس ورڈز اور نیٹ ورکس تک رسائی سے ہیکرز پورے سسٹم کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں ایڈوائزری کے مطابق صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ہیکرز کو کسی فائل کو کھولنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ وہ نیٹ ورک اور حساس معلومات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ونڈوز 7 سے 11، ونڈوز سرور 2022 سمیت دیگر ونڈوز ورژنز کے صارفین اس سے متاثر ہوسکتے ہیں ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ مائیکرو سافٹ نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی آفیشل حل جاری نہیں کیا بیان میں دوہرے حفاظتی نظام اور نیٹ ورک کی مضبوطی کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا کہ فائروال اور ورچوئل لوکل ایریا نیٹ ورک سے مخصوص معلومات کو محفوظ بنایا جاسکتا ہےایڈوائزری میں یو ایس بی، ای میل اٹیچمنٹ اور شیئرفولڈرز کےذریعے مشکوک فائلز کو نہ کھولنے کا مشورہ بھی دیا گیا

  • بجلی تقسیم کاجدید نظام: پاکستان کیلئے 20 کروڑ ڈالر قرض منظور

    بجلی تقسیم کاجدید نظام: پاکستان کیلئے 20 کروڑ ڈالر قرض منظور

    اسلام آباد- ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کوبجلی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کیلئے 20کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دیدی ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعلامیے کے مطابق ڈسکوز کی قابل بھروسہ بجلی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو 20 کروڑ ڈالرز قرض دیا جائے گا اے ڈی بی کے مطابق رقم سے لیسکو، میپکو اور سیپکوکے انفرا اسٹرکچرمیں بہتری لائی جائے گی، گرڈ سے قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی سے کاروباروں کو بڑی سہولت حاصل ہوگی جب کہ بجلی کے ترسیلی نقصانات کم کرنے اور انفرا اسٹرکچربہتربنانے میں مددملےگی اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مدد فراہم کرے گا، امداد سے بجلی تقسیم کا نظام جدید بنایا جائے گا اور نقصانات کو کم کیا جائے گا جب کہ بجلی نقصانات میں کمی سے شعبے کے مجموعی نقصانات میں خاصی کمی ہوگی ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق منصوبے کے تحت 3 لاکھ 32 ہزار ایڈوانس میٹر لگائے جائیں گے جس سےڈسکوزکو اصل وقت میں بجلی کے استعمال اور گرڈکارکردگی کا ڈیٹا میسر ہوگا جب کہ منصوبے سے تینوں ڈسکوزکی آن لائن ٹرانسفارمر مانیٹرنگ کی جاسکے گی